مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تیونس میں امریکی سفارتخانہ نے ایک امریکی ٹی وی چینل کی جانب سے ایسے شخص کے ساتھ انٹرویو نشر کیے جانے پر ردِعمل ظاہر کیا، جسے ایران میں گرائے گئے امریکی طیارے کا پائلٹ بتایا گیا تھا۔
انٹرویو میں کیے گئے دعوؤں کے حوالے سے تیونس میں امریکی سفارتخانہ نے لکھا ہے کہ ایک امریکی پائلٹ ایران میں 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گر گیا، لیکن خدا نے اسے بچا لیا! کمر کی ہڈی ٹوٹنے کے باوجود وہ پہاڑ پر چڑھ گیا!
بچنے کے بعد اس کا پہلا پیغام کیا تھا؟
خدا نے رحم کیا!
سوال یہ ہے کیا یہ زندہ بچ جانے کی ایک بہادری بھری داستان ہے یا اس فوج کے لیے ہیرو بنانے کی ایک ناکام کوشش، جو ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے اپنے مشن میں شکست کھا چکی ہے؟
جب مشن ناکام ہو جاتا ہے تو افسانہ سازی شروع ہو جاتی ہے۔
آپ کا تبصرہ